Pages

Thursday, August 29, 2019

جلوہ رخ جانم


جلوہِ رخِ جانم مئے حیرت کدم

زمینوں نے جب گردش کی اور جب یہ تھم گئیں تو نئے عالم وجود میں آگئے ۔۔۔ یہ گردش کیا تھی ، پاش پاش ہونا لکھا  ہوا تھا ۔ جب زمین پاش پاش ہوئی تو کچھ نہ بچا ، بس ایک وہ بچا جس نے دی'' ھو ھو'' کی صدا اور پلٹ دی یکدم کایا اور صدا دی اللہ ھو اللہ ھو اللہ

 جسے ہم چاہتے ہیں  دیتے ہیں اور جسے ہم چاہیں اسے زمانہ چاہتا ہے ، جسکا ہم ذکر کریں ۔۔ زمانہ اسکا ذکر کرتا ہے ،محبت عطا ہے ، یہ جذب ،محبت کسی دکان پر نہیں ملتا نہ ہی کسی مہمان سے ، نہ ہوتا یہ نسیان سے ، اس میں جاتا ہے ہوش ، بندہ ہوتا ہے مدہوش ، یاد بس ہماری رہتی ہے ، یاد بھی کیا ہے ، ہم جس کے دل میں بستے ہیں وہ بھلا کیا بھول پائے ،جسکے آئنے میں ہم خود کو خود دیکھتے ہیں ،    وہ محبت کی آیات سے بنا ہے۔۔۔۔۔کون جانے کس کو ملتی ہیں کتنی رفعتیں ۔۔ یہ اوج یہ بہار یہ قربیتیں ، یہ فیضان ، یہ سب ہماری بخشش ، یہ جو صورت رحمان ہے یہ جو صورت فارس ہے یہ جو صورت اشجار ہے ، یہ گلاب ہے وہ گلاب ہے ، یہ چمن ، جو ہم دے وہ کیا رہتا ہے کچھ نہیں ہوتا بس جہاں ہم ہوتے ہیں ، وہ ہمارا قبیلہ ہوتا ہے

نور محمدﷺ کو جب ہم نے خلق کیا ، ساری پسندیدہ ارواح اس نور کے قلب میں ڈال دیں ،

اے محمد ﷺ تو ہمارا آئنہ ہے

اے محمد ﷺ تیرا قلب نوری خزینہ ہے

اے محمد ﷺ کن کا سلسلہ تجھ سے ہے

اے محمد ﷺ حمد کا سلسلہ تجھ سے ہے

اے محمد ﷺ میرا ذکر تجھ سے ہے

اے محمد ﷺ تیرا ذکر مجھ سے ہے

ساری نوری آئنے محمدﷺ کی ذات سے ہیں ،وہ ان سے بھی ، ذاتِ حق سے بھی ضو پائیں گے جن کا ربط آپﷺ سے ہوگا ان کا حق ذات سے بھی ہوگا ، جس کا ربط حق سے ہوگا ،یقیناً نبی کریم ﷺ اسکی رحمت  کے داعی ہیں ۔۔ جو نبی کریم ﷺ سے محبت کرتا ہے وہ اللہ تک رسا ضرور ہوگا ۔۔۔ اس پر لازم ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ اور اللہ دونوں کو چاہے ۔۔  وہ محبوب بنے ، محب بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نور کی ساری صفات آپ کو سونپی گئیں ہیں۔۔۔ رحمانیت کا در رحیمی ہے وہ بھی آپؐ سے ہے ، بانٹ دینا آپؐ کا کام ہے اور ان  کو دینا اللہ کام ہے ،

اے محمد ﷺ یہ جو عاشق سدرۃالمنتہی تک پہنچ کے لڑکھڑا جاتے ہیں ان کو کنارے لگانا آپ کے ذمے ہے ! ہم جسے چاہیں جیسے چاہیں دیں ، ہم نے اپنے محبوب بندوں کو  بہت نوازا ہے ، ان کو اپنا آئنہ بنایا ہے ، ان  میں اپنا رنگ سجایا ہے ، وہ رنگ جو 'الف' اور 'م' کے سنگ سے جڑا ہے جس کی شبیہ سے ان کو  نوازا گیا ، جسکو اوڑھنے کا سلیقہ بھی  دیا جاتا ہے اور وہ جو حیرت ِ جلوہ جانم کے بعد عقل کھو جاتی ہے اس سے  محفوظ رکھا ، اسلیے تو  وہ میرے محبوب کی پناہ میں ہے ۔ ان کی آنکھ  کا آنسو ہماری محبت کا نشانی ہے ، یہ جو دریائے معجزن حیرت و محبت کا سنگم  اندر  رواں ہے اس کا سرا بھی ہم سے ملتا ہے ہم جو چاہیں  نشان مٹادیں۔ ہم چاہیں  عروج عطا کردیں ، آزمائش انہی دونوں صورتوں میں لکھی ہے ، جو پار کرگئے نیا ، وہ جیت گئے ، جلوے ان کے ہوگئے

مکمل تحریر >>

شرف حاضری

شرفِ حاضری

اے تجلیِ طہٰ ۔۔۔۔۔ یہ بے خبری کا تیر خبر دے گیا ، یہ بیخودی کا جام خودی کا درس دے گیا ، اے شامِ لطافت ، اے رات کی ہتھیلی پہ سجنے والی حنا۔۔۔

اے تجلی مدثر ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ خودی کا جام پلانا بے خبری دے گیا ، بیخودی کی رمز سکھا گیا ، اے ملیح صبح ، تیرے آنگن پہ سرخ چولا سورج نے پہن رکھا ہے ۔۔۔

اے تجلی یسین ۔۔۔۔۔ رات کی حنائی ہاتھوں میں سرسبز گنبد کی مانند روشنی دینے والی چمک ، یہ بے خبری میں بیخودی کا سنگم ۔۔۔

اے تجلی مزمل۔۔۔۔۔ اے طلوعِ آفتاب سے پہلے کی تجلی ، رخِ یار کے جمال نے نظارے سے دور رکھا ، سورج جانے کس اوٹ چھپا ہوا ہے

وہ آنکھ کتنی سوہنی ہے ، جب کب دل میں آتی ہے ، سب دکھنے لگتا ہے ، نظر کے سامنے غائب موجود ہوتا ہے ، چلی میں اس سمت ، جو میرے قافلے نے مجھے دی ہے ، وہ روشنی جس کی دیواریں ﷺ کی  نقاشی دکھاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ طیبہ کے مینار ے، وہ روشنی جس نے غاروں کے اندر جگہ بنا لی ہے                                         ۔۔۔۔۔ وہ روشنی جو چالیس برس غار کو اُجالتی رہی ۔۔۔۔۔۔وہ روشنی جب ثور کی وادیوں میں تھی ،پہلی دفعہ جالوں نے کم مائیگی پر فخر کیا ۔۔ وہ حبیبِ رسولِ ﷺ ۔۔۔۔ سعادتِ محبت نبھائی ، خوش بختی  اس محبوبِ رسولﷺ کو  سلام پیش کرتی تھی ۔ کیسے کیسے عاشق پائے ، وہ لاڈلے مصعب بن عمیر ۔۔۔تیروں سے جگر چھلنی ، نیزوں سے  تن زخمی ۔۔۔۔۔۔ شہید    ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ طلحہ ۔۔۔۔ بازو بنا کے ڈھال  عشق کے اصولوں کے پاسدار ۔۔۔ وہ قرنی ۔۔۔ درد کو   فاصلوں پہ محسوس کرتے رہے ۔۔۔ وہ  عشق کی کمال ہستی ۔۔۔طائف   کی سرزمین پر لہولہان ، دعا کی شیدائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ روشن مینارے ۔۔۔ یہ عشق کے شیدائی۔۔۔ خوش نصیب جن کو دیدِ مصطفیﷺ کی سعادت ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحیر مر مٹے ۔۔۔ عشق  سرِ دار ۔۔۔۔ تمنائے دید لیے ۔۔۔۔ کلمہِ عشق ادا ۔۔۔ فنا چلی  جنون کو چھوڑے ۔۔۔ بقا کی وادی میں سرخی  پھول ، سرخ لباس ، حنا   زمین کو رنگنے کو تیار ۔۔ عشق دار پہ نثار ۔۔ کب  جامِ دید  پلائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بیخودی ان کے اندازِ حجابانہ پہ طاری ۔۔۔۔۔۔۔۔ رفتگی  دار پہ طاری ۔۔۔

قبورِ پہ حاضری ۔۔۔طیور دیں گے ۔۔۔۔۔ عشق پرواز۔۔ پرندہ گنبدِ سبز پر ۔۔۔۔ منتظر کب ہوا تحلیل کرے ۔۔۔ قدم  حاضری کو اٹھیں ۔۔۔۔۔۔ طائر  درود  سلام دیے بیٹھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صلو علی الحبیب ۔۔۔۔۔۔ سلام تاجدار کو بے شمار ۔۔

                               

مکمل تحریر >>

شہادت بہ حسن روایت

Sadia Noor:
دل کے ٹکرے شُروع ہوگئے اور ہاشمی چراغوں سے اُجالا کرنے لگا یہ قَلم ... حَلم سے رکھ لفظ اے قلم!  ہاشمی چراغوں سے دل روشن ہونے جارَہا ہے!  استاد کہتے ہیں اسے جو ہدایت کا چراغ پہلے روشن کردے! دل میں اسم الہی کی تکرار ہے اور دفینے کی تہہ میں ھو لکھا ہے ......

سینے میں اَحد کا میدان ہے اور حمزہ پِیا کی قبر ہے!  بوطالبی چراغ، ہاشمی روشنی .... رضاعی بھائی، حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ... غنیم کی سرحدوں میں گھرے، دلیری سے لڑتے رہنے والے میرے محبوب صحابی نے جان کی قربانی سے دریغ نَہ کیا .... ناک، کان، ہاتھ، ہاتھ، غرض عضو عضو قربان ہُوا!  دل والے حاضرین ...یہ وہ قربانی ہے جو اک ہاشمی چراغ کا خاصہ ہے!  

دل کی سرزمین پر جبل احد پر حمزہ پیا شَہید ہوئے ... دل کو دُکھ ہے؟ دل کو غم ہے؟ دل نازاں ہے ایسی قربانی پر ... سرخ تیروں سے زخم کھانے والے، دل میں احد احد کہنے والے اللہ کے وجود کا اثبات ہیں ... اللہ قران پاک میں فرماتا ہے...

ولا تقولو لمن یقتل  فی سبیل اللہ اموات  بل احیاء ولکن تشعرون

وجود اثبات حق کا دلیل ہے،
حمزہ شہید ہو کے بھی شاہد ہے
دل نَذر کیا گیا تھا راہ خدا میں
بعد میں جان کا نذرانہ دیا گیا
نعرہ تکبیر اللہ اکبر کہا گیا تھا
اکبریت کو شَہادت سے بتایا گیا
چشم نم عالیجناب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہوئی تھی
ہاشمی چراغ فنا بعد بقا ہوا ہے

بوطالبی دہن، داؤدی لحن لیے شاہِ نجاش کے سامنے کون تھے؟  جعفر طیار بن ابوطالب برادر علی شبیہِ صاحب جمال سید البشر صلی اللہ علیہ والہ وسلم ...ہاشمی چراغ روشنی کرے، دل میں خشیت نہ اترے؟  ورتل القران سے وجلت قلوبھم کا سفر نَہ ہو؟ کیا ممکن ہے! شاہ نجاش نے عیسوی قندیل کا قصہ سُنا اور دل تیقین  سے اسکا حق حق کرنے لگا! دربار میں ھو کی خاموشی چھا  گئی ....
حق ھو!  حق ھو!  حق ھو!  حق ھو!

گفتار میں اللہ کی شان جعفر
کردار میں اللہ کا ایقان جعفر
زیست کا قصہ ء صداقت ہے
شہادتِ جعفر حق کی امامت ہے

موتہ کا میدان اور عَلم جعفر رضی تعالی عنہ کے ہاتھ میں ...  تیر سے تیغ سے لہو لہو بدن ...سرخی دیکھ گگن کی! ارض پر گرتا رہا لہو اور نازاں ہوئی زمین!  شاہِ ہاشم ہیں جعفر طیار! پرواز میں شہباز ہیں جعفر طیار!  آنکھ سے نہ پائیے لفظ میرے، دل میں اتر جائیے! دیکھیے گھڑ سوار لہولہو گھوڑے سے لگا عَلم کو سنبھالے! واہ کی ذیشان ہے! جس کی شان رشک ملائک ہے! جس کو پَر دیے گئے پرواز کو!  حق کو بھی تو پیار ہے نا جعفر سے!  اس لیے تو بُلالیا سکینت کی نیند میں .... میرے دل میں اردن کی سرزمین روشن ہے اور جنگ و جدل نے حرف و صنعت میں جہاد نہیں سیکھا!
اللہ نے فرمایا اس لیے شہید کو مردہ نَہ کہو! شہید زندہ ہے! جس کی زیست حق کا اثبات ہو!  وہی احسن التقویم کی بنیاد ہے

حق کی زَمین میں مقدس ترین مقام ہے کعبہ!  علی رضی تعالی عنہ کی ولادت کی جا ہے!  مولود کعبہ نے شان سے آنکھ کھولی! حرمت کی مثال فاطمہ بنت اسد تھیں ان کی ماں، جن کی تربیت میں ذیشان مثل خورشید ایمان لانے والوں میں سبقت کرگئے!  گویا اللہ کے پیغام پر لبیک کہہ دیا بنا کسی تردد کے!

نے رد کفر، نے جنگ و جدال سے،
کلمہ ء حق پڑھا حق کی مثال سے
آیتِ تمجید لوحِ دل پر اتری ہے
علی بُراق ہاشمی، الواجد کا وجد
الماجد کی تمجید، آیتِ تطہیر
ولایت کی زمین،  امامت کے تاج
نور کے آفتاب، تجلیات کا مرقع
ناطق قران ہیں اسم الہی ہیں
العلی کی مثال، قدسی تخت ہیں
جبروتی کرسی، ھاھوت پر فائز
صبر کا اخبار ہیں، لوح قرانی ہیں
مقطعات کا علم، گنجینہ الاسرار

امام علی ایمان لائے!  وصال آیت پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وقت .... امام علی  ساکت!  ہر شے میں سکتہ ء درد، دل کی کرسی ہجرت میں لرزے لرزے گرتے گرتے بچی ہے!  علی رضی تعالی عنہ کو جب یقین آیا تھا تو وفا کی لاج نبھاتے آیت پاک  صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تدفین کی ...کیا سعادت پائی! حق والے ہیں! اس پاک مقدس آیت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو لحد میں اتارے صامت ہوگئے! عالم ھو میں سب ہوا ...آنکھ اشکبار تھی، دل میں اللہ اللہ کی صدا تھی ..وہاں پر شجر بمثال مرا دل بھی رویا تھا! میں نے جب دیکھا یہ منظر تو لرز اُٹھا دِل ....!

جانتے تھے شہادت ان کی راہ  دیکھتی ہے! مرغ جس دن بانگ دینے سے گھبرا گئے! سحر نمودِ صبح سے گھبرائے!  سپاہی گھبرائے گھبرائے سب! فضا پر ملول تھی!  اشک بندیاں میری دیکھو دل والو ...اک مرغ بسمل کی مانند تڑپ رہی تھی میں، امام علی مسجد میں تھے اور میرا دل لرزاں!  جب تلوار چلائی گئی! مسجد خون سے نہلا دی گئی!  امام علی نے کہا میں کامیاب ہوگیا ... حی الفلاح کی آذان پر شہید

ہاشمی چراغ گیا نہیں، میرے سینے میں فانوسِ نور میں لُو کا نام ہے یہ ..... یہ چل رَہی ہے رِوایت، اشک بہ اشک، دل بہ دل، لعل بہ لعل ...

.اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ .....

روحِ حسینی استقلال آہنی
روح حسینی لوحِ قرانی
روحِ حُسینی  باعمل کہانی
الا اللہ سے نسبت چلانی
روح حسینی، زنجیرِ الہی
روحِ حُسینی، پیہم جاودانی
روح حُسینی، جہاد ایمانی
روح حسینی، قربانی پرانی
روح حسینی، یقین کا اثبات
روح حسینی، کوثر کی بات
روحِ حسیی، تار حریر ریشم
روح حسینی، سیف اللہ
روح حسینی رخِ وجہ اللہ
روحِ حُسینی الحی القیوم
روحِ حسینی کربل کی نشانی

خاک کربل نازاں بہ ایں ہاشمی و بو طالبی چراغ! مقتلِ کربل میں کچھ مردان مثلِ علی، کچھ مردان مثل جعفر، کچھ مردان مثلِ حُر تھے!  حُر والوں نے جان دے دی، بَہا دیا خون!  زمین سرخ کردی!  مردان مثل جعفر نے عَلم کی حفاظت میں جان دیدی کہ اسلام زندہ رہا ان کی قربانی سے!  مردان مثل علی نے اَبدی چَراغ روشن کیے اسلام کی حرمت خلافت سے مملوکیت میں بدل نہیں سکتی!  زمین پر انسان نائب ہے، اللہ حاکم ہے! یہی تو لڑائی تھی ساری کہ حاکمیت اللہ کی اور انسان اسکا نائب!  حسینی قربانی یاد رکھنے والو!  فخر سے سر بلند کرلو!  خلافت آج بھی جارہی ہے جبکہ بادشاہت مٹ چکی ہے!  جس جس کو خلیفہ الارض کا ناز حاصل ہے! مل کے اک نعرہ لگاؤ
حسین زندہ باد!
خلافت زندہ باد!
اللہ مالک و مقتدر!
اللہ العلی! اللہ الوالی
اللہ حق!  اللہ والے حق

مکمل تحریر >>

الوہی چراغ

"روشنی ہوتی ہے .... چراغ الوہی ہو تو .... الوہی چراغ کیسے ہوتا ہے، جب دل کا ہر حرف ثنائے محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں بسر ہو .... داستان دل رقم کیے دوں یا کم مائیگی پہ افسوس کروں ... افسوس بھی کیوں کروں کہ میں ہوں کیا؟  کافی عرصہ ہوا قلم اپنی رفتار پہ رک گیا اور جذبات کے تلاطم میں شور نہ رہا، نہ حرف کے لیے خون چکاں انگلیاں ہوئیں،  نہ دل ...دل بھی کیسا جو کہ فگار نہ تھا! افسوس ایسے دل پر جو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہجر میں روئے نا. جگر بھی سالم ہے،  جگر چاک نہیں .... قصور ہے نا تو میرا ہے کہ نعت لکھنے کی حسرت تو ہے مگر نعت لکھنے کو جو لوازمات چاہیے ان سے دل عاری ہے، روح مریض ہے ... دل مسکن ہے وبائی امراض کا .... نہ ان کی نظر ہوئی،  آئنہ دھندلا صیقل کیسے ہو؟  کیسے ہو؟  شرم ہے نا کہ ماہ ربیع الاول کا چاند طلوع ہوا ہے اور دل پر اسم محمدی کے نقش نے جنبش نہ کی.  پتھر ہے دل!  پتھر دل سے جھرنا کیسے جاری ہو؟  کیسے چشمہ نکلے اور جب ہچکیاں نہ لگیں تو یہ حال ہوتا ہے .....

دل کو دیکھیے،  حسد رکھتا ہے تو جلتا جاتا ہے ...  دل کو دیکھے جلتا ہے تو غصہ کیا جاتا ہے     دل کو دیکھییے کہ یہ حیلہ گر چاہتا نہیں کہ دل میں روشنی ہو. دل میں چراغاں ہو .....

روشنی کا مقدر عجیب ہے .... روشنی پانے والے کیسے ہوتے ہیں جن کو نعت گوئی کی سعادت حاصل ہوتی ہے. اپنا دامن دیکھوں تو خالی نظر آتا ہے آج تلک ایسی نعت تو کہی نہیں کہ کہنے کا حق ادا ہوجائے ... روشنی کا ستم عجیب ہے ... چراغ الوہی ہے تو ماند کیوں ہے؟  روشنی مقدر جس کا ہو  تو اندھیرا کیا ہو؟  ............

وہ بھی کیا منظر ہوتا ہے جب حرا کا غار ہو،  اور ہوا کی رفتار سے اس پر چڑھنا نصیب ہو .... نماز ادا ہو اور دل کہے کہ نعت سنا دے ... اس جگہ پہ بیٹھ کے اگر نعت پڑھوں تو لگے کہ میں نے نعت نہیں کہی بلکہ سب کہہ دیا جو میرے بس میں تھا یا کہ کوئی محفل نوری ہو، یہیں کہیں  ہو اور میری نعت وہیں سنی جارہی ہو اور میری بات مقبول ہو رہی ہو ...

نعت کہنے کو حرف دل ہونا چاہیے
زخم دل کو خون سے پرونا چاہیے
رات کی ہتھیلی پر ہو محمد لکھا
قلم جب لکھے تب خوب رونا چاہیے

مکمل تحریر >>

Wednesday, August 28, 2019

خوش وصال گھڑیاں

سوچتی ہوں اُن خوش وصال گھڑیوں کو، عہدِ محمدی صلی اللہ علیہ والہِ وسّلم اور حضرت سلمان فارسی کی تَلاش کا سفر ..... آگ کی پَرستش کرتے ہیں مگر ان کا دِل ایسی پرستش سے خالی تھا، ان کو جستجو تھی ایسی ہستی کو چاہا جائے جو واقعی  اللہ کہلائے جانے کی مستحق ہو ....

فالھمھا فجورھا واتقوھا

حضرت سلمان فارسی سفر میں رہنے لگے تاکّہ اصل کی جستجو کی جاسکے. راہب سے ملے، اس کی خدمت کی تو علم ہوا، خدا اَلوہی اَلوہی ہستی ہے اور ان حضرات سے اللہ کا پتا ملتا ہے جو خود الہیات کے جامے پہنے ہوئے ہوتی ہیں ... راہب نے مرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خبر دی، ساتھ مہر نبّوت کی خبر دی....، فارس کے سلمان رضی تعالیٰ عنہ،  جستجو لیے مدینہ منّورہ پُہنچے اور کھجور کے جھنڈ دیکھے. دل کے اُن کے قرار آیا کہ  وُہی ہے سرزمین ہے جسکی عید جیسی خبر ملی ان کو، خُدا کی تلاش کو ایسے شخص کی تلاش کی جس کے پشت پر مہر نبّوت ہو، صلی اللہ علیہ والہ وسلم ..... فارس کے سلمان رضی تعالیٰ عنہ نے جب آیتِ نبوت دیکھی تو وجود خشیت سے لَرزنے لگا، اشک گرنے لگے،  خوشی کے آنسو، تلاش مکمل ہونے کے بیحال آنسو ......،  نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت پر ایمان لے آئے .......  اللہ کے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ...

سلمان منا اھل بیت ....

تلاش و جستجو کا سفر،  حضرت ابو ذَر غفاری کا جناب سلمان فارسی سے بڑھ کے لگا،   دور جاہلیت میں فرمایا کرتے تھے، اللہ ہر جگہ موجود ہے، قبلہ بھی جس جانب وہ، اسی جانب وہ!  دل میں موجود خانہ کعبہ مقدس سمجھ کے خدا کو چاہے جاتے اور ایسی نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا انتظار کرنے لگے،  جو ان کو حق سے واصل کرے ... ،  

فالھمھا فجورھا واتقوھا

حقیقت میں اللہ نے بَدی و نیکی ملحم کردی ہے مگر اِس کا اِحساس ایسے چند نفوسی کے لیے مثبّت ہوا، جنہوں نے دورِ جاہلیت میں حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرح خود کو پاک و صاف رکھے. حضرت ابوذر غفاری تو اس حد تک پہنچ گئے،  قبیلہ ء غفار کے منکرین کے بُت توڑ ڈالے .... تلاش ان کو درِ اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم لے گئی، یقین ایسا تھا بنا کسی نشانی کے کلمہ پڑھ لیا ....
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

آپ صلی نے فرمایا اس سفر کو اخفاء رکھنا، مگر حق جس کو ظاہر کردے وہ رُکے نَہ رُکے، یہی حال جناب ابو ذر کا ہُوا، خانہ کعبہ گئے بُلند آواز میں کلمہ پڑھ آئے بنا کسی احتیاط کے پتھر برسیں گے، گھونسوں سے لاتوں سے مارا جائے گا،  غرض جتنا مار کھاتے، اسی جوش سے کلمہ جاری رہتا تھا ....یہاں تک کہ مدہوش ہوگئے ....اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی .... شیر دلاور کیسے چھپ چھپ کے اسلام کو رکھتا ... !

ان ہستیوں کو سوچتے اُویس قرنی کا خیّال آیا،  روح کا ربط روح سے کیسے جدا تھا، دور بیٹھے بھی کوئی بندہ ء خدا تھا،  سینے میں چلتا رہا قران کا علم،  انتقال کا یہ سلسلہ جُدا تھا!

محبت کے یہ سلاسل سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ذات بہت حقیر ہے. ذات کے تکبر کو نفی کیا جانا چاہیے تاکہ کسی اک صفت سے اللہ نواز دے اور مسلمان ہونے کی غیرت جاگ جائے،  تاکہ عمل کرنے کا اختیار حاصل ہوجائے ..... پھر محبت ہو ایسی کہ حضرت بلال رضی تعالی کا سوز و گداز نصیب ہو، روح کو اذن ملے تو سفر ہو

مکمل تحریر >>

شیر خدا کے نام خط

خط نمبر ۵
شیرِ خُدا،  ولی اللہ،  سید الامام،  مہر ولایت،  باب العلم،  ذوالفقار،  فاتح خیبر

السلام علیکم
.آپ کو خط سب سے پہلے لکھتی ہے! یوں لگتا ہے آپ میرے بالکل نزدیک ہوں. ایسا لگتا ہے مرے قدموں کی چاپ، نہیں یہ آپ کی آہٹ ہے. .. دل میں محفلِ بزمِ حیدر کوئے یاراں سے چلتی ہے اور علی علی علی کا نعرہ دل کے دالانوں سے تا عرش گونجتا ہے اور زلزلے زد میں لے لیتے اور یوں لگتا ہے کہ آپ کی کرسی دل میں قرار پکڑ چکی ہے. آپ کی اس قدر شدید کشش ہے، جی چاہتا ہے دنیا چھوڑ کے آپ کے عشق میں مجذوب ہو جاؤں ..نہ جاؤں کہیں ..آپ کی خوشبو ایسی ہے جیسے پوری کائنات مسکرا رہی ہے،  دھوپ بھی سردیوں کی ہے،  شام نہ دھوپ مگر چھاؤں کی ٹھنڈی ہوا جیسا احساس ہے .. دل کی صدا ... شیرِ خدا سے ملنا ہے .. دل کو کیسے بتاؤں؟  شیر خدا سے کیسے ملتے ہیں؟  میں خوش بختی پہ نازاں ہوں مولائے کائنات ... میرے مولا،  میرے آقا ... کشش کا تیر،  سینہ خون خون ہے اور اس خون کو کربل کی خاک سے نسبت ہے اور جانے مری خاک کس کس در در سے ہے ...سیدی، مجھے خاک نشین سے ملا دیجیے ...خاک نشین نے اپنا بھید مجھ پہ ظاہر نہ کیا ....ایسی ملامت کا ہنر مجھ کو بھی عطا کر دیجیے ...
سیدی مولا شیر خدا .... میرے خط کا جواب ضرور دیجیے گا ..منتظر رہوں گی ...
رحم و کرم کی منتظر
آپ کی نور
تاریخ   ۲۸ اپریل ۲۰۱۹
بوقت ۱۰:۴۵

مکمل تحریر >>

سیدہ خدیجہ

دل پیش روئے جاناں مدہوش ہے! لگتا ہے میں بھی اک وادی میں ہوں، طائر خوش گُلو پرواز کر رہے ہیں!  صحر ا میں اک چارپائی ہے!  چارپائ کے گرد قدسی ہیں!  قدسی سلام پیش کرتے ہیں!  ہالہ نور سیدہ خدیجہ رضی تعالی عنہ اسی چار پائ پر بیٹھی ہیں! پہلی بار بزرگی کی سفید چادر اوڑھے اس سردار خاتون کو کالے لباس میں دیکھا!  مجھے تو لگا چاند زمین پر آگیا اور آفتاب نے رخ موڑ دیا!  میں تو خادمہ ان کی ...قدموں میں جگہ ملے!  اوجِ بشر کو اس سے بڑھ کے بات بھی کیا ہوا!  بولیں کہ حلف شدہ ہو!  روحی سند کی تیاری ہے!  جب آوازہ ء کن ہوگا، تب بُلایا جائے گا! ابھی تو مجھے پایا ہے، آگے تو بہت سی اہل بیت سردار ہستیاں ....فرماتی ہیں کہ تمھیں فرمان خدا یاد ہے!  اللہ فرماتا ہے اہل بیت کو گندگی سے پاک کردے،  اس لیے ان کو نیکی و گناہ کا جزا و سزا دو گنا ہے ...اس پاک سیدہ بی بی کے آگے زبان گنگ!  میری جھڑیاں،  آنسو کی لڑیاں ... سر پر ہاتھ رکھ کے کہتی ہیں ....میں ترے ساتھ ہوں، تجھ سے راضی ہوں .... اللہ بھی تجھ سے راضی ہے! اب تجھے نماز سکھانی اور پھر اٹھتے اٹھتے سکھانے لگتیں ہیں طریقہ ء وضو ...کہتی ہیں نماز کا سب سے پہلا قرینہ وضو ہے ... وضو سے شروع کرو....میں ان کو تکے جارہی ...اس حسن ملاحت کے آگے شعور کی سب گتھیاں سلجھ جاتی مگر شعور بھی گنگ!  اللہ رے فقیر کے رنگ!  مومن بھی ہے مست ملنگ!  وہ خود وضو کرتی ہیں صحرا میں اک چشمہ ہے اس چشمے سے پانی نکلتا ہے ابلتا ہوا ....اور میں دیکھ رہی نیت سے آگے جاری وضو کس طرح روح کو مزید  منور کر رہا تھا ...مجھے لگا روح مری منور ہو رہی ہے،  درحقیقت یہ مری روح کا وضو ہوا ہے!  جھکے سر کو مل گیا ادب کا وضو!  نماز عشق سکھائی جانی ہے! .... سیدہ نے مری روح پر مقام دل پر ہاتھ رکھا اور سیاہی کے داغ سب چھٹنے لگے!  میری روح ہچکیاں مارے روئی جائے!  اللہ رے ترے رنگ!  فقیر ترا مست ملنگ!  ہست نگر سے مل رہا ہے نیا نیا اک سنگ!  بس جیسے ہی روح صاف و مصفی ہوئی سیدہ چلیں غار کو ...مگر جاتے جاتے مسکرا کے فرمایا!  ہمارا سایہ تم پر رہے گا!
مکمل تحریر >>