Pages

Saturday, November 2, 2019

یہ دم عکس مجھے کیا.ہوا

یہ دم عکس مجھے کیا ہوا؟ میرا وجود ہے بنٹا ہوا. میرا عکس ہے جِلا پایا، میرا نور، نور حزین ہے،  وہی جو میرے دل میں مکین ہے،  وہی جو فشار میں روان ہے،  وہی جو رگ جان سے قرین ہے،  وہی جو نسیان کی بات میں ہے،  وہی جو شہِ والا کی رات ہے،  میری رات میں ان کی بات ہے،  والیل تری نظروں کے ہیں سائے،  والشمس ہے مقام ما زاغ البصر،  والضححی رقت آمیر ہچکی جب مانگی تھی دعا امت کے لیے،  والعصر پہ روئے حبیب خدا

یہ جراءت  نہیں کہ منظور نہیں جینا، یہ حاجت ہے کہ منظور نہیں مرنا، جب ہوں وہ، تو کیا مرنا، جب نہ ہوں تو کیا جینا

ہم سب اپنی نصیب کے چکروں میں، اک چکر میں گھوم رہے ہیں. کبھی دن تو کبھی رات کبھی آنکھ تو کبھی چاند، کبھی نور تو کبھی نار، کبھی استقامت تو کبھی بہک جانا. یہ ہمہ ہمی میں اسکی ہے سانس بنی،  یہ سانس میں جو چلی ہے اک شرار سی بنی ہے اس شرار میں نام لوح حرف کا عکس فاطمہ ہیں میری نسبتوں کا معین وقت ہے،  میرا مرکز نور فاطمہ ہیں. فاطمہ کے لعل باکمال نے زیست کے سب مرحلوں میں دی آگہی کہ حق یا علی کہنے سے نہیں، حق یا علی سے شہید کی منزل نصیب ہونے تک،  کچھ نہیں ملتا. اللہ ھو الشاھد اللہ ھو الشہید


مکمل تحریر >>

تری یاد میں دل حزین کا قرار لٹا

تری یاد میں دلِ حزین کا قرار لُٹا
دید میں ہو کے گُم، باڑہ نور کا بنٹا
ماہ لقا!  مہرِ رسالت،  تمثیل یزداں
دل میں نہیں کوئ بس تو پنہاں
یہ جو ہم ہار گئے، تیر دل کے پار گئے
جو جان سے گزر گئے ترے در بیٹھ گئے
سچ پایا سب نے روئے شہِ ابرار کے پاس
گنوا دیے دل جو گئے شافعی امم کے پاس
رات سلونی،  شام خنجر، انتظار لذت
منتظر ہیں وار پہ وار کہ ہیں یار ساتھ
اے ختم الرسل،  ہادی برحق، سالار امم
دیکھیے مجھےآنکھ میں نم،  دل میں غم


مکمل تحریر >>

جبین دل

جبین جھکی تو پیار ملا
نیاز میں رہے، اظہار کیا

قسم شب تار کی، حریر ریشم میں مقید خیال کی،  قسم ہے اس خورشید تابانی کی ... قسم ہے اس زیست کی جب حرکت پذیر کرنے والے کام میں،  ہر سکوت میں، آیت چھپی ہے ..

آیت حق کی تلاوت کرتے ہیں
نامہ دل کو جب پڑھتے ہیں
لوح قران کو جب بھی دیکھا
نور نبی میں گم ہو کے رہ گئے
ماہ رسال نے اخبار جہاں دیا
ہر خبر میں نیا اک زماں  دیا

کیا یہ شوق ہنر ہے کہ سادہ بیان ہے، لطیف سی بات میں دریا کا سامان ہے  نشان توحید کا نظارہ ہے، ہر آنکھ اللہ کا ستارہ ہے،  وضع میں جن کی ہو روشنی، پھیلیتی ان سے ہے خوشبو   اے چاند نگر کے رہنے والے ...کیا چاند سے آشنائی ہے؟ آنکھ میں تو کمال ہے، یہ کیسا حال ہے. روشنی آفتابی ہے، یہ کیسا حال خوابی ہے،  ہر شے اضافی ہے

راز توحید جو نکلا عیاِں نہ ہوا
اپنے نشان ڈھونڈنے چلا تو نہاں نہ ہوا. ذرہ ذرہ میں اک،  گاہ گاہ میِں اک،  وہ نقطہ میم کے ساتھ ہے تو تاج  رسولِ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کائنات ہے

بس ہم سب اپنی نصیب کے چکروں میں، اک چکر میں گھوم رہے ہیں. کبھی دن تو کبھی رات کبھی آنکھ تو کبھی چاند، کبھی نور تو کبھی نار، کبھی استقامت تو کبھی بہک جانا. یہ ہمہ ہمی میں اسکی ہے سانس بنی،  یہ سانس میں جو چلی ہے اک شرار سی بنی ہے اس شرار میں نام لوح حرف کا عکس فاطمہ ہیں میری نسبتوں کا معین وقت ہے،  میرا مرکز نور فاطمہ ہیں. فاطمہ کے لعل باکمال نے زیست کے سب مرحلوں میں دی آگہی کہ حق یا علی کہنے سے نہیں، حق یا علی سے شہید کی منزل نصیب ہونے تک،  کچھ نہیں ملتا. اللہ ھو الشاھد اللہ ھو الشہید


مکمل تحریر >>

آیات جلال میں جمال کی نمود

کام ہمارا بس یہی ہے جینے کی کمی ہے بس اک دل لگی ہے رات بھی سجی ہے لوح مبارک چمک اٹھی ہے،  یزدانی نور ہے،  روحانی گھڑی ہے، پر وصال گھڑیاں ہیں،  سایہ دل میں جاناں کا جلوہ ہے،  سایہ جان کی بات کیا ہے!  میری اوقات کیا ہے، ہم نے ابر سنبھال رکھا ہے گویا اس نے ہم کو ڈھال رکھا یے،  رات سے قبل زوال رکھا ہے،  عجب صبح کا حال رکھا ہے،  ہر بات میں کمال رکھا ہے،  نشتر میں اک سامان رکھا ہے،  دید میں خنجر کا بازار رکھا ہے؟  آسمان کو سر پہ اٹھا رکھا ہے، یہ دل کس نے اٹھا رکھا یے،  مٹنے کے بہانے سو مٹے نہیں، جلنے کے بہانے سو مگر جلے نہیں. یار کے وصال میں کیا کمال ہے کہ گھڑی گھٍڑی میں وصال ہے

گفتگو کس نہج کی ہو، جانے کس لڑی کی ہو،  جانے کس رہ میں بنے جانے کس عمر تک چلے جانے کس کمال تک ملے جانے کس مثال میں ملے جانے کس کتاب میں ملے جانے کس آیت سے پتہ ہلے جانے کس شجر کے آرپار ہوں. جانے کس ولی کے سو یار ہوِں جانے کس کبریاء جاناں کے ہزار راز ہوں. جانے کس لہو میں لا الہ الا اللہ کی تمجید ہو جانے کس گھڑی میں جان رطب للسان رہے جانے کون سے گھڑی میں وہ بلیغ لسان ملے، جانے لمحات رک جائں، جانے گھڑیاں تڑپ جائیں،  جانے وقت کی گونج سے پربت لرز جائیں پر معبد دل میں خشیت کا وضو ہو،  مزمل کی ردا ہو اور مدثر کا جلال ہو تو کمال ہو

یہ ان کی عطا ہے مجھ پہ کس کی ردا ہے، کالی کملی میں کمال ہے، مجھ پہ طاری حال ہے، میری کیا مجال ہے جو ہے ان کا سال ہے،  دل میں کیا سوال ہے کہ ہر بات میں جواب ہے،  یہ ہاتھ میں رباب ہے، تار محمدی یے، مشک عنبریں میں رکے نہ رکے چلے نہ چلے، جھکے نہ جھکے رہے نہ رہے ہم گئے

آیت جلال میں جمال کی نمود
شوق طرب میں  درد کی حدود
میٹھا ذکر ہو تو ہوتا ہے ورود
ہر سانس میں تھمتا ہے وجود

حرکت دل میں نام محمد ہے،  اس نام سے چراغاں ہے چار سو،  دروبام گونج اٹھے ہیں،  صلی علی پڑھتے رہے کہ وصال کی گھڑی کے انتظار میں تھک گئے ہیں مگر فنا کے منتظر رہے کہ کب وہ دکھیں کب مریں کب موت ہو تو کب زندہ ہوں. زندگی میں کیا کمال ہے وگرنہ سانس بھی اک وبال ہے. اب کچھ ہم سوچتے ہیں کہ کہنے کو مطلق مثال کیا دیں. ہم سوچنے کو روئیت حال کیا دیں


مکمل تحریر >>

آیات سیدہ فاطمہ. نمبر ۳

آیاتِ سیدہ.فاطمہ
تحریر نمبر ۳
اجمال کی تفصیل کیا ہے ہم کیا جانیں گے ہم تو اتنا جانتے ہیں یہ نسخہ مصحف ابراہیمی حسینی.روح میں ظاہر ہوگیا،

یہی.وہ نعمت ہے جس کے لیے اللہ نے فرمایا

"الیوم اکملت ..."

وہ وجود(نور) مکمل ہوگیا وہ مصوری جس کے لیے المصور نے دنیا.بنائی  ...وجود، مصوری،  سب مکمل ہوا،  قلم حسن کے شاہکار پہ توڑ دیا گیا کہ اس سے بہتر نقاش گر نے کیا بنانا تھا

تمام انبیاء کا نور مکمل ہوکے  مقدس نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے   سیدہ فاطمہ رضی تعالی عنہ  کی روح میں منتقل ہوا  تو اللہ نے فرمایا

انا اعطینک الکوثر،

سیدہ.طاہرہ عالیہ زاہدہ مرضیہ، راضیہ، مطہرہ،  عارفہ  بی بی فاطمہ رضی تعالی عنہ کو پہچاننے والے، خود کی پہچان کرگئے،   یوں امِ ابیھا بی بی فاطمہ(سلام و درود ان پر)  سے رکھنے والے کشتی پار کرگئے

قسم کھائی خالق نے  اس کعبے کی جس کو تخلیق کیا گیا،  قسم  کھائی  اس حُسن کی جو  ظہور آدم سے نمود ہوتے،  یوحنا علیہ سلام  سے جوزف علیہ سلام  سے،  محمد  صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں پہنچا،  ساری کائنات نے محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم  سینے(قلب /نور)  کا طواف کیا،  اس لیے پتھرمسجود ہوگئے،  کلمہ پڑھنے لگے، اس لیے چاند شق ہوگیا،  اس لیے مکڑی نے غار ثور میں جالا بُن دیا،  اس لیے جب بوقت ہجرت مٹی پھینکی گئی تو کفار اندھے ہوگئے ... اس لیے احساس کی رم جھم دلوں پہ پڑنے لگی،  اسی وجہ سے شجر جھک جھک کے باد کو سلام کرتے ہیں کہ باد بھی سیدہ بی بی  فاطمہ علیہ کو  سلام کرکے آتی ہے

  بی بی مریم علیہ سلام ہو،  آسیہ بی بی ہو،  یا ام عائشہ رضی تعالی عنہ ہوں ... یہ  سب سلاسل نور کے مرکوز ہائے رنگ پیرہن سیدہ پاک بی بی  میں مجتمع ہوئے ...   جب امام  حسین  عالی مقامنے نوکِ سناں سجدہ کیا،تو خدا  چاہتا تو نار ابراہیمی جیسے گلنار ہوئ،  اس طرح یہ مقتل گاہ  نہ سجتی نہ نوک سناں سجدہ ،  یہ نہ ہوتا  تو جنون کی  سب پردہ دری کرتے رہتے

اسی نے "خضر" کا رستہ اختیار کرلیا،  گویا "موسی "خود میں خضر ہو گیا، 

اے خضر راہ،  بتا تو سہی کہ انجیل مقدس کے راستے کون سے ہیں
اے خضر راہ بتا، نمود جلال
سے ظہور جمال کی پہنچ
اے خضر راہ بتا،  درد کی منتہی پہ کیا رکھا ہے

وہی فضل ہے جو سیدہ بی بی مریم علیہ کے دل میں اترا،  انجیل  مقدس دل میں اترتی ہے،  یوحنا کی تعظیم اترتی ہے،  کعبے میں جگہ مل جاتی ہے
حیا کی مٹی سے جب تخلیق کیا گیا تو سب سے پہلے اس خاص مٹی سے  سیدہ پاک دامن بی بی فاطمہ رضی تعالی عنہ کو تخلیق کیا گیا،

اسم نور علی النور کی کہانی ہے
یا ایھا النفس المطمئنہ کا بیان ہے،  اسی آیت کے لیے آیت خاص کو ملحم کیا گیا،  آیت خاص وجدان کی سطح پہ اترتی ہے،  نسلیں تب قبائے ہاشمی پہن لیتی ہیں،  جہاں جہاں نور بکھرتا ہے،  اجالا ہوتا جاتا ہے،  درد کی بھی تھیں قسمیں،  اک درد قربانی کا،  اک درد نفس کا،  اک درد تڑپ کا تھا،  اک درد احساس کا تھا،  اک درد پیار سے نکلا خاص تھا،  یہ درد تمام رنگ اسی نسل میں،  اہل بیت، پنجتن پاک میں اتار دئیے گئے ہیں،  آیت خاص  سورہ الکوثر کے علاوہ کیا ہے!  یہ وہ مثل آب ہے،  جس نے اسکو پالیا.گو یا خضر راہ سے کلیمی پالی

حُسینی نور کو کمال کی بلندی حاصل ہے،  شرح صدر سے شرح نفس تک کی بات ہے، جب خدا نے کہا اک جسم میں دو دل نہیں ہوتے،  تو آزمائے گئے تھے مومن   یہاں تک کہ ان کے دل حلق تک خشک ہوگئے،  اس خوف میں اک استقلال رکھا.گیا تھا،  یہی استقلال ہے جو حسین کو دیا گیا،  حسین اس نور استقلال سے معبد بدن میں تھے،

ابن علی کو  علم خاص عطا کیا تھا،  جب  "اقرا " کے حرف ابتدا سے سکھایا گیا تھا قران،  جب احساس نے قلم سے رشتہ نہیں پکڑا تھا،  جب کن کا خیال وجود میں آیا تھا،  اس خیال میں تپش حسن سے خیال عین ظہور ہوا ...حسین نام تھا اس خیال کا،  یہی نام حسین فلک سے فرش تک اترا تھا

کمال تھا کہ شان بے نیازی کا دوشالا ہم نے عطا کیا تھا،   جب  امام حسین نے کربل کے میدان میں قدم رکھا ........ تو قسم خدائ کی،  قسم الہیات کی،  قسم ہے قلم کی،  قسم نور وجود کی جو سینوں میں اتارا گیا، امام حسین نے پیٹھ نہ پھیرا،  درد کو سینے پہ سہا،  درد روحی تھا ... درد جسمی تھا .... درد کی تمام قسمیں امام  حسین کو دیں گئیں  ..قسم اس ذات کی، امام  حسین نے تخلیق ناز ہونے کا حق نبھایا ہے ....،

امام حسین کو کمال خاص عطا ہوا تھا،  اس کائنات میں امام علی  حیدر کو جو شجاعت عطا ہوئ ہے،  اس شجاعت کا کمال امام حسین نے پالیا تھا،  کمال رفعت کو پہنچا تھا سلسلہ ہائے مولائے علی کے تار حریم سیدہ پاک بی بی  فاطمہ سے حسین کو،  تو شجاعت نے کمال کی پگڑی پہنی تھی کربل میں

امام حسین کو  چرند پرند، تلوار دستار،  پہاڑ سب سے بات کرنے کی دسترس دی،  جو نطق گویائی حضرت  داؤد و سلیمان علیہ سلام  کو ملی،  اس گویائی، ناطق ہونے  کی انتہا  امام حسین کو ملی،  یہ نطق  جس کا سلسلہ سیدہ پاک بی بی فاطمہ کی نسبت سے چلا ...بلاشک یہ علم لدنی یے،  یہ اللہ کی عطا ہے

جب درد قسم قسم کے ملنے لگے تو جان لو کہ درد تحفہ ء ایزدی ہے، جان لو تحفہ حسینی ودیعت کردیا گیا،  جان لو شام حنا کے وقت تعین میں نسل.قربانی تک تمام احیاء العلوم  میں حسین ہے

یہ جو جمال ہے جس کو تم دیکھو، جو غور کرو جب فلک کی نیلاہٹ پاؤ، جب چاند کو ہمہ وقت رات کے حسن میں تلاشو، جب پتوں کی سراسراہٹیں اک پیغام دو جو جان لو یہ نور حسن ہے ..نور حسن کو نور حیات سے مخلق کیا گیا،  نور حیات آئیتہ الکرسی ہے، یہ کرسی حسنین کریمین میں قرار پکڑے ہوئے ہے،  آیت سردار،  سرداروں میں ترتیل.ہوتی ہے،  تب ہی علم عمل میں ڈھلتا ہے تو جان لو حسن کو علم میں کمال حاصل تھا

یہی کوثر ہے،  یہی حوض کوثر کا آب ہے ..چشمہ ء اس کے  عرش کا پانی ہے،  عرش کا پانی باب حلم سے باب عفو تک جانے والوں کو یہی ملتا ہے،  قدسیوں سے پوچھو حیرت حسن نے کیا کام کیا ہے،

حسن کی.شہ رگ میں نسبی کلمہ شجر زیتون کی مانند تھی،  نور ایسا تھا اس شجر سے چار سو پھیلا ہوا ریا ہے ..والتین ا الزیتون ...احسن التقویم کی مثال ہیں حسن ہیں،  حسن میں حَسن با کمال ہیں ...چمن حسن سے خوشہ ہائے گلابی عطر پھیلے، نبی کی سیرت جو چار سو پھیلی ہے،  یہ جو بارش رحمت کی برسے،  یہ ہوا جو چلے،  یہ کمال حیرت میں پہاڑ حیرت میں گم رینے لگتے ہیں
اجمال کی تفصیل کیا ہے ہم کیا جانیں گے ہم تو اتنا جانتے ہیں
وہی فضل ہے جو مریم علیہ کے دل میں اترا،  انجیل  مقدس دل میں اترتی ہے،  یوحنا کی تعظیم اترتی ہے،  کعبے میں جگہ مل جاتی ہے
حیا کی مٹی سے جب تخلیق کیا گیا تو سب سے پہلے اس خاص مٹی سے فاطمہ کو تخلیق کیا گیا،


مکمل تحریر >>

Friday, September 27, 2019

فرق

درد کے سمندر میں غوطے لگائے اور پھر ڈوب گئی ..درد لحظہ لحظہ شان بڑھاتا گیا اور میں جھکتی گئی. وہ وقت آیا کہ پیمانہ چھلکتا رہا، جتنا چھلکا اتنا موجود رہا، میں حیران رہی کہ باہر اور اندر برار ہوگیا کیا؟

حاضرینِ دل!  سنیے
یہ جو حال ہے، یہ درد ہے، فکر میں ڈھل رہا ہے. یہ فکر عمل سے عامل کرتے جانبِ رقص ہے. کیا سودِ زیاں؟ کیا زیانی؟ کیا حکم ربانی کے بغیر یہ حال ممکن ہے؟  ممکن نہیں کہ درد کی اساس بنا کے اس نے یاد کے طرب میں مدہوش کردیا ہے

میرے لب خاموش ہوچکے اور دل ہمہ وقت گفتگو میں ہے ...کائنات کی ناتمامی کا دکھ میری کائناتیں جلا رہا ہے .... کب ہوگا یہ غم تمام؟ کب؟ جبکہ میں اک خیال محض ہوں اور حیثیت کچھ نہیں. خاک کا پلستر خیال کی بجلی ....خیال اسکا جب دھیان ہٹائے گا، موت کا وقت .... درمیان میں کشمکش ہے سی ہے کہ وہ میں ہی ہوں جو اسکے دھیان میں ہوں؟  وہ تو لمحہ بھر غافل نہ ہوا مجھ سے. پھر مجھے کس کی طلب ہے؟ پھر میرا گیان اس کے گیان سے کیوں نہیں مل رہا ہے ...بس یہی فرق ہے ...فرق مٹ گیا تو حقیقت کھل جانی ہے
مکمل تحریر >>

Saturday, September 7, 2019

سلام

دِل بارِدگر بَرسنا چاہے
بس اک تُجھے دیکھنا چاہے
تو جلوہ بَہ کمال ایں نیستی
تو پیش مظہر مانند حق شد


یہ فلک، یہ ماہ، یہ آفتاب، یہ جَہان، یہ عالم رنگ و بو ...  یہ دُکھی ہیں، انہوں نے میرے دکھ کو محسوس کیا ہے. میں نے چاند کو سرخ سرخ دیکھا ہے،  سورج تو جانے کس اوٹ میں ہے مگر بادل  آکاش کے نیل میں دامن گیر پناہ لیے ہوئے، کچھ بھرے بھرے بادل برسنے کو تیار ہیں، کچھ شجر جن کے پتے چُرمراتے ترے آنے کا پتا دیں مگر تو نَہیں وہاں بھی ... کچھ مٹی کے ذرے جن کی دھول اڑتی ہے، جب اوپر اٹھ کے آنکھ میں پڑے تو اشکوں کا پھندہ بنتے بتاتے ہیں یہ تو ہے جو دِلاسے کو اشک بندی کرے ہے .... یہ جو چند ندیاں پہاڑوں سے جاری ہوئیں ہیں ..ان کی قیمت فرہاد کی دودھ کی نہر سے زیادہ ہے کیونکہ اس میں خونِ جگر کی آمیزش ہے.  یہ جسم کیا، ہزار جسم بھی ہوں تو نثار ہو جائیں، یہ روح کیا ہزار روحیں بھی ہوں تو وار دوں ... پھر کہوں کہ مالک کیسے اقرار دوں؟

یوم الست کو جس نگاہ نے دیکھا، وہ یہی تھی
یوم الست کو جس نے سوال کیا،  وہ یہی تھی
یوم الست کو جس کو جواب دیا،  وہ یہی تھی
یوم الست سے قالو بلی کی تجدید،  وہ یہی تھی
یوم الست میں کچھ قبل عشق کی تمہید،  وہ اور تھی
یوم الست سے کچھ بعد عشق کی تمجید،  وہ یہی تھی
یوم الست میں کچھ طواف، کچھ متوف،  مطاف کیا تھا؟
یوم الست میں کچھ دیوانے، کچھ مجذوب، وہ کون تھے؟
یوم الست میں پیکر جمال میں شامل پری کا کمال کیا تھا؟
یوم الست وعدہ ہوا تھا! یاد ہے مجھے مگر کس صورت میں؟
یوم الست میں چکر پہ چکر تھے اور یہی تو تھا سب
یوم الست کے ان چکروں میں بھولا تو خود کو، باقی تو تھا
یوم الست سے اب تلک نہ بھولا خود کو، باقی تو وہی ہے، تو ہے
یوم الست کی چیخ! ہاں چیخ!  سنی تھی نا میری؟ جب جدا کیا گیا تھا
کیوں جدا کیا گیا تھا؟
کیوں نیزے جدائ کے؟
کیوں برچھیاں یادوں کی؟
کیوں اشک عشق والے؟
دل کو کربل،  سے نسبت
دل کو حرم سے نسبت
میرا حرم بھلا کیا ہے؟
میرا عشق بھلا کیا ہے!
فرق نہیں نا کچھ بھی تو فرق نہ رکھیں گے
یہ اضداد تو کھیل تماشا ہے
یہ زوجین کے مابین رشتے
ہر روح کا زوج الگ،
ہر مادے کا زوج الگ،
ہر روح کا دوگ الگ،
ہر روح کا امر تو اک
ہر روح کی صورت الگ
ہر صورت کی شہ رگ تو
ہر صورت کی صدا الگ
صدائے ربی ربی میں نے کہا


پتا ہے خالق ... اندھے تھے ہم، ہاں اندھے ... تری روشنی اتنی تھی کہ دکھا نہ کچھ، پھر تیرگی کا وجود آیا اور ہم زمین پہ لائے گئے کہ نفس کے شہتیر سے چلائے گئے. جرم اذنی ربی سے خلا دل میں ہوا تھا کہ رب ارنی ارنی کی صدا میں تو نے لن ترانی کی بات کی تو پھر ہوا وہی خاکی مصدر کے ہوش اڑ گئے اور کچھ کو لگا زمین زائل ہو رہی ہے، کچھ کو لگا زمین گہری ہو رہی ہے، کچھ کو لگا تو مل رہا ہے، کچھ کو لگا کہ تو ہی تو ہے کچھ نہیں ہے، کچھ کو لگا کہ سید جان ہیں دل میں بستے ہیں، کچھ مکرم ترے سید کے لیے ، کچھ غلام تھے ازل سے سوہنے سے مکھڑے کے،  صلی اللہ علیہ والہ وسلم، کچھ کو تو نے روشنی سے جلا بخشی تھی، کچھ تری ذات کے وہ حصے تھے جن کو  شناسائی نہ تھا کہ تو ہی ذات،  تو خود اعلی ہے،  تو ظاہر حق باشی،  تو جانب چار سو ...کوئ ذات مکمل نہیں ماسوا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ... اس لیے ماسوا ان کے ناتمامی کی سوزش چار سو ہے ..وہی نور تو ہے ہر سو ...وہی تری جگہ ہے تو کہیں محمد محمد کی صدا ہے تو کہیں احمد احمد سے لگن ہے ...

سلام بی بی زہرا کے اس نور کو،
جس کی پارسائی کے تیر دل میں چلے
سلام اس ماہتاب  چندے آفتاب کو
جس سے زمن در زمن چلنا یے
سلام اس با حیا پاک صورت کو
جس کی غلامی سے جی بھرتا نہیں
سلام اسکو سیدہ عالی نسب کو.
جس کی نسبت ِ غلامی معتبر ہے
سلام اس چراغ ہست کو جس نے
چراغ کشتہ کو روشن کردیا یے
سلام اس خاتون زہرا کی مثال کو.
جس کی جدائ نے فنائیت کا احساس دیا
سلام اس اس پری چہرہ مثل بدیع الجمال
جس سے دم دم میں اسکی صدا ہے
اب تو بس ال دھن باقی ہے
میری ذات کو تو ہی کافی ہے
میں جو کہوں وہ کیا بلھے کی کافی ہے؟
میں جو بولوں وہ شاہ حسین کا گیت ہے؟
میں جو کہتی وہ شاہ لطیف کا ڈھنگ ہے؟
میں جو کہتی وہ سچل سر مست کا نغمہ ہے؟
میں جو کہتی وہ امیر خسرو کی غزل ہے؟
میں جو کہتی وہ  سراج کی عالم نیستی ہے؟
میں جو کہتی وہ بیدم وارثی کی شوخی ہے؟
میں جو کہتی وہ کچھ نہیں وہ رب کا عشق ہے
میں جو کہتی وہ کچھ نہیں اسکے ہجر کا ملال ہے
میں جو کہتی وہ کچھ نہیں وہ اسکا حسن ہے
میں نہیں کہتی کچھ یہ وہ کہتا ہے سب
تو نہیں چار سو، وہی ہے چار سو ہے
مکمل تحریر >>